براہ کرم اپنا رجسٹرڈ واٹس ایپ نمبر درج کریں۔
نیا ٹریکر شروع کرنے کے لیے رجسٹر کریں۔
| سرگرمی |
|---|
جواب: جان بوجھ کر کچھ کھانے پینے، سگریٹ نوشی کرنے، اور دوا کھانے یا پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
جواب: اگر کوئی شخص بھول کر کچھ کھا یا پی لے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اسے چاہیے کہ جیسے ہی یاد آئے، کھانا پینا چھوڑ دے اور اپنا روزہ مکمل کرے۔ (صحیح بخاری)
جواب: مسواک کرنا سنت ہے اور روزے میں کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے۔ ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنا مکروہ ہے، اور اگر اس کا کوئی حصہ حلق سے نیچے اتر گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ احتیاط بہتر ہے۔
جواب: ایسا انجیکشن جو طاقت یا غذا کے لیے نہ ہو، بلکہ صرف علاج (جیسے درد کش) کے لیے ہو، اور گوشت یا رگ میں لگے، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ البتہ، گلوکوز یا وٹامنز کی ڈرپ جس کا مقصد جسم کو توانائی دینا ہو، اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔
جواب: آنکھ یا کان میں دوا ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اگرچہ اس کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو۔
جواب: اگر قے خود بخود آئے، چاہے جتنی بھی ہو، روزہ نہیں ٹوٹتا۔ لیکن اگر جان بوجھ کر قے کی جائے اور وہ منہ بھر کر ہو تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
جواب: روزے کی حالت میں سونے کے دوران احتلام ہونے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
جواب: ٹیسٹ کے لیے تھوڑی مقدار میں خون نکلوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ البتہ، زیادہ مقدار میں خون عطیہ (donate) کرنے سے جسم میں کمزوری آسکتی ہے، اس لیے بہتر ہے کہ اس سے بچا جائے یا افطار کے بعد کیا جائے۔
جواب: ان گناہوں سے روزہ ٹوٹتا تو نہیں، لیکن روزے کا مقصد اور روح ختم ہو جاتی ہے اور ثواب میں شدید کمی آجاتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص جھوٹ اور برے کام نہ چھوڑے، اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔
جواب: رمضان کی راتوں میں تراویح پڑھنا سنت مؤکدہ ہے اور اس کا بے حد ثواب ہے۔ نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا: "جس نے رمضان میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کیا (تراویح پڑھی)، اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے گئے"۔ (صحیح بخاری)
جواب: رمضان کے آخری عشرے میں اللہ کی عبادت کی نیت سے مسجد میں ٹھہرنے کو اعتکاف کہتے ہیں۔ یہ ایک عظیم سنت ہے اور اس کا مقصد دنیا سے کٹ کر اللہ کی رضا حاصل کرنا اور شب قدر کو تلاش کرنا ہے۔
جواب: صدقہ فطر ہر صاحب نصاب مسلمان پر واجب ہے جو وہ اپنی اور اپنے زیر کفالت افراد کی طرف سے عید کی نماز سے پہلے ادا کرتا ہے۔ یہ روزے کی حالت میں ہونے والی کوتاہیوں کا کفارہ اور غریبوں کے لیے عید کی خوشیوں میں شرکت کا ذریعہ ہے۔